اک بھولی بسری ٹرین

1980ء کی دہائی تک وہ زمانہ تھا جب آپ کسی بھی دن خیبر میل ٹرین میں سوار ہو سکتے تھے ۔ بالفرض اگر کوئی صبح نو بجے لاہور سے یہ ٹرین پکڑتا تو اگلی صبح چھ بجے سے پہلے کسی وقت نیند سے بیدار ہونے پر یہ ریل گاڑی جنگ شاہی کے خوابیدہ پلیٹ فارم کو پیچھے چھوڑ رہی ہوتی تھی۔ایئرکنڈیشنڈ سلیپنگ بوگی میں ہر کیبن کے ساتھ غسلخانہ بھی ہوتا تھا جہاں مسافر نہانے دھونے اور شیو بنانے کے بعد چالیس منٹ میں تروتازہ ہو کر باہر آتا تھا۔جی ہاں ٹرین میں نہانے کی سہولت بھی موجود تھی۔ اس وقت تک پاکستان ریلوے کا سنہری دور برقرار تھا اور تمام ایئرکنڈیشنڈ سلیپنگ بوگیوں سے ملحق غسل خانوں میں شاور بھی لگے ہوتے تھے ۔ مسافر نہانے کے بعد اپنے کیبن میں آتا تو باوردی خدمت گار گرما گرم ناشتے سے بھرے برتن لے کر حاضر ہو جاتا تھا۔درحقیقت یہ خدمت گار صرف ناشتہ ہی نہیں لاتا تھا بلکہ کھانے کے تمام اوقات میں جادوئی انداز میں حاضر ہو جایا کرتا تھا۔ اس کھانے کا ریلوے ریسٹ ہاؤس کے باورچیوں کے تیار کردہ چکن، چاول اور انڈے کے سالن سے کوئی موازنہ نہیں تھا مگر پھر بھی یہ اچھا خاصا ہوتا تھا۔اس شاندار ادارے کا بتدریج زوال 1980 کی دہائی میں آمریت کے دور عروج میں شروع ہوا اور سب سے پہلے بوگیوں سے شاور غائب ہو گئے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ مستقبل میں کیسے حالات پیش آنے والے ہیں۔خیبر میل اور تیز گام جیسی شاندار اور سدابہار ٹرینیں تباہی کا شکار ہوئیں تو ان سے کہیں بعد میں شروع ہونے والی شالیمار ایکسپریس نے سفری سہولتوں کا معیار کسی حد تک برقرار رکھا۔ لاہور اور کراچی کے درمیان چلنے والی اس ٹرین کی نشستیں نہایت آرام دہ ہوتی تھیں اور مسافر ان پر استراحت بھی کر سکتے تھے ۔ پاکستان میں ریلوے کا زوال 1980 ء کی دہائی میں آمریت کے دور عروج میں شروع ہوا اور سب سے پہلے بوگیوں سے شاور غائب ہو گئے یہی نہیں بلکہ ٹرین میں عمدہ ایئرکنڈیشنڈ سسٹم کے باعث ماحول اس قدر ٹھنڈا ہو جاتا کہ خدمت گار کو بار بار کہہ کر ایئرکنڈیشنڈ بند کرانا پڑتا تھا۔ٹرین صبح سات بجے سٹیشن سے روانہ ہوتی اور رات نو بجے منزل پر پہنچ جاتی تھی۔ کھانا ٹرالیوں میں لایا جاتا اور اس میں اپنی پسند کے مطابق اشیا کے انتخاب کی سہولت بھی موجود ہوتی تھی۔ اس ٹرین پر سفر کرنا بے حد پرلطف تجربہ تھا کیونکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ لوگ اس کی ایئرکنڈیشنڈ پارلر کار کو ترجیح دیتے تھے اور یہ ٹرین شاذ ہی لیٹ ہوتی تھی۔گزشتہ دہائی کے وسط تک پاکستان ریلوے کا شاندار دور قصہ ماضی بن کر رہ گیا۔ برانچ لائنیں بند کر دی گئیں اور ٹرینیں لیٹ ہونے لگیں۔ لاہور سے راولپنڈی تک مختصر روٹ پر چار گھنٹے کی تاخیر تو عام بات ہے جبکہ لاہور سے کراچی جانے والی ٹرینیں بیس گھنٹے لیٹ بھی ہو جاتی تھی۔معاملات اس قدر بگڑ چکے تھے کہ اگر کوئی شخص ٹرین پر سفر کرنا چاہے تو اس کے لیے کوئی بھی پیشگی منصوبہ بندی کرنا ممکن نہیں تھا۔2005 ء میں ٹرین پر سفر کے یکے بعد دیگرے دو تلخ تجربات کے بعد میں نے تہیہ کر لیا کہ اب ریل گاڑی کے قریب بھی نہیں پھٹکوں گا۔ ٹرین پر سفر کے مجھ ایسے شیدائی کے لیے یہ دل شکن بات تھی مگر میں تقریباً نو برس تک اپنے عزم پر قائم رہا۔کچھ عرصہ قبل مجھے سکھر سے کراچی جانا تھا مگر صبح سویرے جانے والی فلائٹ دھند کے باعث منسوخ ہو گئی۔ چنانچہ میں نے بس کے ذریعے کراچی جانے کا ارادہ کیا۔

مودی کی جارحانہ خارجہ پالیسی

بس ٹرمینل پر مجھے بتایا گیا کہ نیشنل ہائی وے عوامی احتجاج کے باعث بند ہے اور تین دن تک سڑک کے ذریعے کراچی پہنچنا ممکن نہیں، گزرے دور میں جب کوئی ٹرین ایک گھنٹہ لیٹ ہوتی تو اس تاخیر کی تلافی کی جاتی تھی۔ مگر اب ٹرینیں لیٹ ہونا معمول بن چکا ہے اور کوئی اس کا نوٹس بھی نہیں لیتایہ حالات دیکھ کر میں روہڑی ریلوے جنکشن چلا آیا جہاں کبھی روزانہ درجنوں ٹرینیں گزرا کرتی تھیں۔ چونکہ مجھے ٹرینوں کی صورتحال کا اندازہ نہیں تھا اس لیے میں نے ریلوے میں ملازم اپنے دوست وسیم آغا کو فون کیا۔ اس نے کمال مہربانی سے اس ضمن میں میری رہنمائی کی اور میں نے پارلر کار کا ٹکٹ لے لیا۔ٹرین مقررہ وقت سے تیس منٹ لیٹ پہنچی۔
بوگی میں نشستیں ٹوٹی ہونے کے باعث ان پر لیٹنا بھی ممکن تھا۔ بوگی کے دونوں اطراف دو بڑے ٹی وی سیٹ لگے تھے جن پر بلند آواز میں بھارتی فلمیں چل رہی تھیں۔ میں نے اس تفریحی سرگرمی کے گنوار نگران کو ٹی وی سیٹ کی آواز قدرے کم کرنے کو کہا تو وہ ناک بھوں چڑھانے لگا۔کچھ دیر کے بعد غلیظ حلیے کا خدمت گار کھانا لے آیا۔
باوردی خدمت گار اب ماضی کی باتیں ہیں۔ کھانے کی ٹرے رکھنے کے لیے فولڈنگ میز بھی نہیں تھی چنانچہ برتن گھٹنوں پر رکھ کر کمر دہری کر کے کھانا پڑتا تھا۔ گویا کہ نہایت ‘ گندی’ سروس تھی۔قدیم ادوار میں کوئی ٹرین ایک گھنٹہ لیٹ ہوتی تو اس تاخیر کی تلافی کی جاتی تھی۔ مگر ہماری یہ ٹرین الٹا ایک گھنٹہ مزید لیٹ ہو گئی۔ کہا گیا کہ کسی فنی خرابی کے باعث انجن درست طور سے کام نہیں کر رہا۔
کسی کا کہنا تھا انگریز دور میں بنی ریلوے لائنیں اب خاصی پرانی ہو چکی ہیں اور ان پر 80 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تیز رفتار سے سفر ممکن نہیں ہے ۔ رات ڈیڑھ بجے کراچی پہنچنے پر میں نے ایک بار پھر عہد کیا کہ دوبارہ کبھی ٹرین کے ذریعے سفر نہیں کروں گا۔شالیمار ایکسپریس نجی شعبے کے حوالے کی جا چکی ہے ۔ اگر نجکاری ہمیں یہی کچھ دے رہی ہے تو خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اگلے جہان میں اس کا اجر دے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں