جعلی دودھ کے خلاف ایکشن

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہفتے کے روز کراچی اور حیدر آباد میں جعلی دودھ کی سپلائی کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے 4 کمپنیوں پر پابندی عائد کردی۔چیف جسٹس کا یہ اقدام نہایت قابل تحسین ہے کہ وہ نہ صرف سیاسی بلکہ عوامی مسائل کی طرف بھی توجہ مرکوز کیئے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس نے یہ حکم بھی جاری کیا کہ کمپنیاں اپنی پروڈکٹ کی پیکنگ پر ’’یہ دودھ نہیں ہے‘‘ لکھیں تاکہ کوئی بھی شخص دھوکے میں نہ رہے۔ ٹی وائیٹنراور سوکھا دودھ اصل میں کیمیائی عمل سے تیار کیا جاتا ہے اس لیئے یہ قدرتی دودھ نہیں ہوتا،جبکہ عوام اسکو دودھ کے متبادل سمجھ کر استعمال کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سوکھا دودھ اور ٹی وائیٹنر مضر صحت ثابت ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس نے جب ان کے نمونوں کے لیبارٹری ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا تو رپورٹ میں یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کے فوائد نہیں بلکہ نقصانات ہیں اور یہ مضرِ صحت ہیں۔ جعلی دودھ کی کمپنیوں کے وکلاء کی جانب سے مہلت کی استدا کی گئی جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔

صاف پانی کے مسائل اور حکومتی انتظامات

ملاوٹ شدہ دودھ کے خلاف اسی طرح کے اقدامات پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے پنجاب میں بھی کیئے جا رہے ہیں اور ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی اس حوالے سے کافی سرگرم نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بڑے بڑے ناموں اور کمپنیوں پر پابندی لگائی ہے اور بہت سے دکان داروں کوسخت جرمانے بھی عائد کیئے ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں ملاوٹ شدہ اور مضر صحت دودھ کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے اتنے سخت اقدامات قابل ستائش ہیں ۔ اس سے بڑھ کر ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ عوام کو بھی اس حوالے سے مناسب آگاہی فراہم کی جائے اور یہ سلسلہ صرف چند شہروں تک ہی موقوف نہ رہے بلکہ اس کو پورے ملک میں پھیلایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے صوبوں کی انتظامیہ کو بھی چاہیئے کہ ایسے ضمیر فروشوں اور انسانیت دشمنوں کے خلاف پنجاب اور سندھ کی طرح کاروائی کرے تاکہ تمام صوبوں میں ملاوٹ شدہ دودھ کو ختم کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں