عاصمہ کا جنازہ اور نیم مُلاؤں کے فتوے

عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ میں عورتوں کی بڑی تعداد میں شرکت پہ ایک نئی بحث کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔یہ بحث عاصمہ جہانگیر کو زبردستی دائرہ اسلام سے خارج کرنے والے انتہا پسند اور رجعت پرستوں کی جانب سے شروع کی گئی ہے ۔سب سے زیادہ پروپیگنڈا یہ کیا گیا کہ نماز جنازہ میں عورتیں شریک نہیں ہوسکتیں اور یہ بھی کہا گیا کہ عورتیں نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتیں۔یہ سب باتیں سوشل میڈیا پہ اس تواتر کے ساتھ پھیلائی گئیں کہ لوگوں کو ایسے لگا جیسے واقعی اسلام میں اور مذاہب اربعہ جو کہ عالم اسلام میں لوگوں کی اکثریت میں رائج ہیں، عورتوں کونماز جنازہ میں شرکت سے منع کرتے ہیں جبکہ اسلامی شریعت کے ماخذ میں ایسی کوئی بات موجود نہیں ہے ۔نماز جنازہ میں شرکت سے خائف ہونے والے مردوں کی اکثریت پاکستان میں اس قدامت پرست اور رجعت پرست طبقے سے تعلق رکھتی ہے جن کی مذہبی فکر ان کی ذات پات، قبائلی رسوم و رواج اور جاگیرداری باقیات سے بنی ریتوں، روایتوں اور رواجوں کے ساتھ ایسے گڈمڈ ہوتی ہے کہ وہ اپنے میل شاؤنزم پہ بھی مذہب کا لیبل لگا دیتے ہیں۔نماز جنازہ میں عورتوں کی شرکت کے حوالے سے ہمارے سماج میں جو منفی ردعمل آیا ہے اس کو ایک اور طرح سے دیکھنے کی بھی ضرورت ہے ۔
یہ عورتوں کو کنٹرول میں رکھنے اور مردوں کی بالادستی کو ہر حال میں قائم رکھنے کی غالب سوچ کی عکاسی ہے اور عورتوں کی کسی بھی اجتماعی سماجی عمل میں اپنی سوچ اور خیال کے ساتھ شرکت نے مرد بالا دستی کے تصورات کے حامل لوگوں کو خوفزدہ کردیا ہے ۔جس نفسیات کے ساتھ عاصمہ جہانگیر کے جنازے میں عورتوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت پہ انگلیاں اٹھائی گئی ہیں، وہ نفسیات پاکستان کے اندر بنیاد پرستوں، انتہا پسندوں اور مذہبی جنونیوں کی نفسیات ہے ۔یہ عورتوں کو حجاب، لباس، ان کے اجتماعی عمل میں شرکت کو ہر حال میں کنٹرول کرنے اور محدود کرنے کی نفسیات ہے اور مختلف حیلے بہانوں سے یہ اسے روکنے کی کوشش کرتی ہے ۔مثال کے طور پہ جب پاکستان کی جامعات کے اندر جنسی ہراسانی کے کیسز سامنے آئے تو دائیں بازو کے انتہا پسند و بنیاد پرست سیکشن نے ایک بار پھر شدومد سے جامعات میں مرد وزن کے اکٹھے تعلیم حاصل کرنے پہ سوال اٹھائے ۔
جب کابل کے بیشتر ‘غیور’ اور ‘بہادر’ مرد خوف کے باعث معصوم فرخندہ کا جنازہ پڑھنے کو نہیں آئے تو اس شہر کی عورتیں باہر نکلیں۔ انہوں نے خود تدفین تک کے سارے مراحل ادا کیے ۔
لیکن جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ با پردہ اور باشرع عورتوں، یہاں تک کہ انتہائی معصوم بچیوں سے زیادتی کے ارتکاب کے جو کیسز سامنے آتے ہیں جن میں کئی ایک میں مدارس کے اساتذہ یا مسجد کے مولوی ملوث پائے گئے تو ان کے ہاں کون سا اختلاط اس امر کا سبب بنا؟ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے تاہم بیشتر لوگ جھنجھلا کر گالیاں بکنے پر آجاتے ہیں۔ایسے ہی جیسے ’گڈ ٹچ‘ یا ’بیڈ ٹچ‘سمیت جب جنسی ایجوکیشن کی بحث سامنے آئی تو رجعت پسندوں کا کہنا تھا کہ ایسی تعلیم سے بے راہروی پھیلے گی۔اس پہ اردو کے معروف ادیب، ممبئی کے رہائشی ناول نگار رحمان عباس نے سوال اٹھایا کہ مدارس میں جو وبا پائی جاتی ہے اس میں کون سی سیکس ایجوکیشن ملوث ہوتی ہے ؟اچھے کام کی آڑ میں برائی کا کام کہیں بھی اور کسی بھی وقت وقوع پذیر ہوسکتا ہے ۔

اک بھولی بسری ٹرین

عاصمہ جہانگیر کے جنازے میں شریک مرد و عورت کے بڑے اجتماع کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کرنے والوں کا کہنا کہ اگر اسے روایت بننے دیا گیا تو اس سے کافی برائیاں سامنے آسکتی ہیں۔یہ لوگ جب ایسا کہتے ہیں تو وہ بھول جاتے ہیں کہ مرد و عورتوں کا سب سے بڑا اسلامی اجتماع حج کے موقعے پہ ہوتا ہے اور حج و عمرے کے موقعہ پہ مرد و عورتیں ملکر احکام حج و عمرہ ادا کرتے ہیں۔حال ہی میں اس مقدس موقعے پہ عورتوں کے ساتھ کچھ نازیبا واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن کا انکشاف بی بی سی کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔تو برے کام کے انجام پانے کے اندیشے سے کسی جائز کام کے کرنے کو اسلام و کفر کا معاملہ بنا ڈالنے والے عناصر دوسروں کو گمراہ کرنے کے ساتھ اسلام کا امیج بھی دنیا کے سامنے خراب کرتے ہیں۔اگر پوری دنیا میں اسلامو فوبیا اور مسلم شناخت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے جذبات اور واقعات کی تہہ میں جایا جائے گا تو اس کی وجہ مسلم بنیاد پرستی اور خاص طور پہ تکفیری جہاد ازم
اور تکفیری جہادی سیاسی اسلام ازم کے ماننے والوں کی حرکات و اقدامات زیادہ نظر آئیں گے ۔اس قسم کی مذہبی جنونیت نے پرامن فرقے سمجھے جانے والوں کے اندر سے بھی تکفیری رجحانات کو جنم دے دیا ہے ۔جیسے پاکستان میں صوفی سنّیوں کے اندر خادم رضوی جیسوں کا ابھار۔آخر میں عورتوں کے نماز جنازہ پڑھنے اور نماز جنازے کے پیچھے چلنے بارے کچھ اسلامی آثار پیش خدمت ہیں:صحیح مسلم کی روایت 2296 کے مطابق:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جب ان کا نماز جنازہ ادا کیا جانا تھا تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ان کا جنازہ مسجد نبوی میں پڑھا جائے تاکہ وہ بھی نماز جنازہ میں شریک ہوجائیں۔
یہ لوگوں کو برا محسوس ہوا تو آپ نے فرمایا کہ لوگ کتنی جلدی بھول جاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سہیل بن ابن البیضا کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کی تھی۔صحیح مسلم کی روایت نمبر2297 کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنھا کی وفات ہوئی تو ازواج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ جنازہ مسجد نبوی میں لایا جائے تاکہ وہ ان کا نمازہ جنازہ پڑھیں،تو ایسا ہی کیا گیا،تو وہ ان کے حجروں میں رکھا گیا تو انھوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی۔۔۔روایت نمبر 2298 میں اس حدیث میں اضافہ ہے کہ سہیل بن دعد اور ان کے بھائی کی نمازہ جنازہ مسجد میں ادا کی گئی تھی۔
مشہور مذہبی ویب سائٹ اسلام ویب ڈاٹ نیٹ میں پوسٹ کیے گئے اس فتوے کی رو سے کوئی دلیل شرعی ایسی نہیں ہے جو عورت کو نماز جنازہ سے روکتی ہو،اور اس پہ آئمہ کا اتفاق ہے ۔بخاری و مسلم میں ام عطیہ نے کہا کہ ہمیں اتباع نمازہ جنازہ سے منع کیا گیا۔یہ ممانعت کیا حرام کے معنی میں ہے ؟ اس پہ علامہ ابن حجر عسقلانی شارح بخاری کہتے ہیں:‘اس میں وہ تاکید نہیں ہے جو دوسری مناہی میں کی گئی ہے ، تو گویا انہوں نے کہا: ہمیں اتباع جنائز سے کراہت کرائی گئی مطلب یہ حرام والی کراہت نہیں ہے ’۔صحیح مسلم کی ایک روایت نمبر 946 کے مطابق نماز جنازہ مرد اور عورت دونوں کے لیے مشروع ہے ، اس کی دلیل نبی کریمﷺ کا فرمان ہے ۔‘ جو شخص جنازہ میں شریک ہوا اسے ایک قیراط، اور جو شخص اس کے دفن تک جنازے کے ساتھ رہا اسے دو قیراط اجر حاصل ہوتا ہے ، ایک قیراط احد پہاڑ کی مثل ہوتا ہے ۔( ثواب میں)روایت کے عربی متن میں شامل لفظ ‘ من’ کے عموم میں مرد اور عورت دونوں داخل ہیں۔
کسی ایک کو بھی استثناء حاصل نہیں ہے ۔علامہ قرطبی تفسیر قرطبی میں لکھتے ہیں:‘ظاہر سیاق بتاتا ہے کہ ام عطیہ کی ممنعت تنزیہی ہے اور اسی پہ جمہور اہل علم ہیں۔ اور مالک بھی جواز کی طرف گئے ہیں اور یہی اہل مدینہ کا کہنا ہے ۔اس کے جواز پہ ابن شیبہ کی روایت ہے جو ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنازے میں شریک تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو جنازے میں دیکھا تو انھوں نے عورت کو جھڑک دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا، ‘اسے کرنے دو اے عمر’ (الحدیث) اسے ابن ماجہ و نسائی میں اس طرح سے دوسری اسناد کے ساتھ ابوھریرہ سے روایت کیا گیا اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔مجھے یہاں خواتین کی شرکت کے حوالے سے تین جنازے یاد آرہے ہیں۔ایک جنازہ نواب خیربخش مری کا تھا۔اسے سرکار ‘درباری رنگ’ دینے کے لیے سپاہ صحابہ پاکستان کے ملّا رمضان مینگل کے ذریعے پڑھانا چاہتی تھی۔بہادر جری بلوچ عورتوں نے رمضان مینگل کو دھکا مار کر پیچھے کیا اور جنازہ اپنی تحویل میں لے لیا۔
نواب خیر بخش مری کے جنازے کا کنٹرول بہادر بلوچ خواتیں نے سنبھالا تو سازشی عناصر منہ دیکھتے رہ گئے ۔ایک جنازہ کابل میں ‘مردود’ قرار دے کر سنگسار کردی گئی 27 سالہ فرخندہ کا تھا۔اس کا جنازہ لے جانے اور پڑھانے میں جب مردوں کو’خوف ‘اور کٹھ ملائیت کے فتوؤں نے روکا تو کابل کی افغان عورتوں نے جنازہ خود کاندھوں پہ اٹھایا اور روانہ ہوگئیں۔اور یہ جنازہ پنجابی جرأت مند بیٹی عاصمہ جہانگیر کا تھا، عورتوں نے اس جنازے میں ہراول دستہ بن کر شرکت کی اور سماجی ٹیبو کو توڑ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں