صاف پانی کے مسائل اور حکومتی انتظامات

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مضر صحت پانی ثابت ہونے پر 24 منرل واٹر کمپنیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ سپریم کورٹ میں کیس کی تحقیقات میں یہ بات واضح ہوگئی کہ منرل واٹر کمپنیاں صاف پانی کی بجائے مضر صحت پانی کی فروخت کر رہی ہیں۔ پاکستان میں پانی کے مسائل گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں اور سوال یہ ہے کہ ریاست صاف پانی کی فراہمی کے لیئے کیا اقدامات کر رہی ہے؟
سال 2015 میں پنجاب حکومت کی جانب سے صاف پانی کمپنی کو پروجیکٹ دیا گیا تھا جس میں پورے پنجاب کو صاف پانی کی ترسیل ممکن بنانا تھی۔ صاف پانی کمپنی کی جانب سے جائزے اور تحقیقات کے بعد تجاویز رکھی گئیں لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ان تجاویز کو رد کر دیا گیا بلکہ ایک کمپنی پر کرپشن کے الزامات لگا کر اس کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ اس کے بعد صاف پانی کمپنی کے کچھ عہدہ داران کو بھی کرپشن کے الزامات پر گرفتار کیا گیا جن پر مقدمات چل رہے ہیں۔ اس کے بعد یہ تمام ٹھیکے پاکستانی کمپنیوں سے واپس لے کر کچھ غیر ملکی کمپنیوں کو دے دیئے گئے۔پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے جائزے اور تحقیقات کی مد میں جتنے روپے خرچ کیئے گئے تھے وہ سب بے کار چلے گئے اور اب مزید وہی تحقیقات چندغیر ملکی کمپنیاں کر رہی ہیں جبکہ وہ بھی مزید کھربوں روپے اس مد میں لگا چکی ہیں ۔ اس سارے چکر میں ابھی تک عوام کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آسکا بلکہ عوام کا پیسہ ضرور خرچ کیا جا رہا ہے۔

امریکی ڈرون حملہ اور پاکستان کی پالیسی

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے تو عوام کو نہ ہی صاف پانی میسر کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اس کے لیئے کوئی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ نجی کمپنیوں کی جانب سے بھی دھوکہ دیا جا رہا تھا ۔ حکومت صاف پانی فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ کمپنیاں اپنی اجارہ داری قائم کرنے میں مگن تھیں اور ہوٹلوں اور دیگر مہنگے ریستورانوں میں بھی صاف پانی کے نام پر پیسے لیکر زہر پلایا جارہا تھا۔ سپریم کورٹ کے قابل ستائش فیصلے نے اس دھوکہ دہی کے بازار کو بند کردیا۔
اب حکومت سے گزارش ہے کہ میٹرو ٹرین پر ہی ساری توجہ نہ صرف کردی جائے بلکہ لوگوں کے بنیادی مسائل پر بھی توجہ دی جائے اور انکو صاف پانی فراہم کیا جائے۔ جہاں جہاں فلٹرز نصب کیئے گئے ہیں انکی باقاعدگی سے دیکھ بھال کی جائے اور لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناقص پانی فراہم کرنے والی پرائیویٹ کمپنیوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ عوام کے ساتھ کھیلے جانے والے اس گھناؤنے کھیل کو انجام تک پہنچایا جا سکے۔ اس سلسلے میں لوگوں کو بھی چاہیئے کہ وہ پانی کا استعمال حفاظتی اقدامات کو بروئے کار لاتے ہوئے کریں اور باہر سے پانی پینے سے گریز کریں۔ اپنے گھروں میں فلٹر لگوائیں اور انکی باقاعدگی سے دیکھ بھال کریں اور اگر فلٹر لگوانے میں کسی قسم کی مشکل درپیش ہے تو پانی کو کم از کم ابال کر ضرور پیئیں تاکہ مضر صحت پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں