کے الیکٹرک کا حصص کی فروخت پر ایف آئی اے کو تحفظات

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 78 ارب روپے کی نادہندہ نجی کمپنی کے الیکٹرک کے انتظامی کنٹرول اورحصص کی فروخت پرسخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کے الیکٹرک سے یہ رقم وصول کرے۔

ایف آئی اے کی تحقیقات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کے الیکٹرک وفاقی حکومت کی 78 ارب روپے کی نادہندہ ہے۔بجلی کمپنی کی نجی انتظامیہ نے گذشتہ 12 سال کے دوران واجبات اور لیٹ پیمنٹ سرچارج کی مد میں سوئی سدرن گیس کمپنی کواربوں روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔

ایف آئی اے نے سفارش کی ہے کہ موجودہ انتظامیہ ابراج کیپیٹل کی اور شنگھائی الیکٹرک پاور کے مابین کے الیکٹرک کے حصص کی خریداری کی منظوری سے قبل واجب الادا 78 ارب روپے کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے 2014 میں ایک شہری کی درخواست پر کے الیکٹرک لمیٹڈ(کے ای ایل) کی جانب سے سوئی سدرن گیس کمپنی(ایس ایس جی سی) سے قدرتی گیس کی خریداری کی مد میں پائی جانے والی سنگین بے قاعدگیوں کے الزامات کے تحت تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

دونوں کمپنیوں پر الزام تھا کہ سال 2015 میں کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی(کے ای ایس سی) کی نجکاری کے بعد بجلی کمپنی اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے مابین قدرتی گیس کی خریداری کا معاہدہ (جی ایس اے) تاحال نہیں کیا گیا ہے۔

قوانین کے مطابق بغیر معاہدے کے کسی بھی صارف کو گیس کی سپلائی نہیں دی جاسکتی تاہم ایس ایس جی سی کے الیکٹرک کے مرکزی بجلی بن قاسم کو بغیر کسی تعطل کے گیس فراہم کررہی ہے۔

درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ دونوں اداروں کی سالانہ مالیاتی رپورٹس میں کے الیکٹرک کو فروخت کی جانے والی قدرتی گیس کے اعدادوشمار میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مالی سال 2012-2011 اور 2013-2012 کے دوران کے الیکٹرک کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق 56 ارب روپے سے زائد قدرتی گیس کی خریداری پر خرچ کیے گئے جبکہ ایس ایس سی جی سی کی سالانہ مالیاتی رپورٹ اس عرصے کے دوران کے الیکٹرک کوصرف 9 ارب روپے کی گیس کی فروخت ظاہر کرتی ہے۔

حصص مارکیٹ مندی سے بچ گئی

ان الزامات کے علاوہ تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ کے الیکٹرک،ایس ایس جی سی کی 78 ارب روپے کی نادہندہ ہے۔ ایس ایس جی سی کے ریکارڈ کے مطابق دسمبر 2004 میں حکومتی کنٹرول میں کے الیکٹرک پرایس ایس جی سی کے واجبات صفر تھے۔ نومبر 2005 میں ادارے کی نجکاری کے وقت یہ واجبات ایک ارب روپے تھے۔

نجکاری کے بعد سعودی گروپ الجمیعہ کے کنٹرول میں رہتے ہوئے اگست 2008 تک یہ واجبات 12 پر پہنچ چکے تھے اور ابراج کیپٹل کی جانب سے ستمبر 2008 میں بجلی کمپنی کا انتظام سنھالنے کے بعد یہ واجبات 78 ارب پر پہنچ چکے ہیں جس میں سے 31 ارب روپے اصل رقم ہے اور 47 ارب روپے لیٹ پیمنٹ سرچارج کی مد میں ہیں۔

تحقیقات کے دوران ایس ایس جی سی کے اعلیٰ افسران نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کے مابین گیس خریداری کا معاہدہ نہیں کیا گیا ہے، دونوں اداروں کے مابین آخری معاہدہ 1978 میں صرف 10 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی کا تھا۔

دوسری جانب کے الیکٹرک اپنی مالیاتی رپورٹس میں یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ادارہ ایس ایس جی سی کے واجبات پر کسی قسم کا انٹرسٹ ادا کرنے کا پابند نہیں۔ ایف آئی اے کی جانب سے وفاقی حکومت کو سفارش کی گئی ہے کہ ایسی صورتحال میں جب کے الیکٹرک کی موجودہ انتظامیہ ابراج کیپیٹل اور ایک چینی کمپنی شنگھائی الیکٹرک پاور کو کے الیکٹرک کے انتظامی کنٹرول کے ساتھ حصص کی فروخت کا سودا اپنے آخری مراحل میں ہے اور وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد اس سودے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

ایف آئی اے نے سفارش کی ہے کہ وفاقی حکومت کے الیکٹرک کے حصص اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی کی منظوری سے قبل سوئی سدرن گیس کے واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنائیں بصورت دیگر یہ واجبات کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے اس سلسلے میں تحریر کیے جانے والے مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس دونوں مفاد عامہ کے ادارے ہیں جن میں حکومت پاکستان کے حصص بھی موجود ہیں۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے کی جانب سے کی جانے والی تادیبی کارروائی سے خدشہ ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو تاہم اس سلسلے میں ایک اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں ایف آئی اے کی بھی نمائندگی ہو اور یہ کمیٹی بجلی کمپنی کو نئے مالکان کے حوالے کرنے سے پہلے سوئی سدرن گیس کے واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں