غیر قانونی پیٹرول پمپس کا دھندہ

پنجاب سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں غیر قانونی پیٹرول پمپس کا دھندہ اپنے عروج پر ہے۔ غیر قانونی پیٹرول پمپس کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے کاروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن یہ کاروائیاں ایسے پیٹرول پمپس کی روک تھام میں خاطر خواہ نتائج پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ شہر وں اور دیہاتوں میں جاری اس دھندے سے انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور بہت سے پیٹرول پمپس حفاظتی انتظامات کو اپنانے سے گریز کیئے ہوئے ہیں ۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایسے پیٹرول پمپس کی بندش کے لیئے اٹھائے جانے والے اقدامات ناکافی نظر آتے ہیں۔ یہ پیٹرول پمپس نہ صرف مہنگے داموں پیٹرول بیچتے ہیں بلکہ انکے پیمانے بھی پیٹرول کی کم مقدار پر سیٹ کیئے گئے ہوتے ہیں۔اگر انکی کوالٹی کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر پمپس ملاوٹ شدہ پیٹرول اور تیل بیچتے نظر آتے ہیں ۔

یوم یکجہتی کشمیر اور مسئلہ کشمیر

یہ پیٹرول پمپس حفاظتی اقدامات سے بھی کوسوں دور ہوتے ہیں اور ایسے مقامات پر قائم کیئے جاتے ہیں جہاں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ باآسانی پیش آسکتا ہے اور انسانی جانوں کا شدید نقصان ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ سگریٹ اور پان کی دکانوں کے ساتھ قائم کردہ’’ پیٹرول کی دکانیں‘‘ انسانی زندگیوں کے لیئے شدید خطرے کا باعث ہیں اوران دکانوں پر فروخت کیا جانے والا ملاوٹ شدہ پیٹرول موٹر کاروں کے لیئے نقصان کا باعث بن رہا ہے۔
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست ہے کہ ایسے پیٹرول پمپس کو صرف جرمانہ کرنے کی بجائے ان کے مکمل سدباب کی طرف غور کیا جانا چاہیئے تاکہ انسانی زندگیوں کے ساتھ جاری اس کھیل کو بند کیا جا سکے۔ پیٹرول کی یہ چھوٹی چھوٹی غیر قانونی دکانیں انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر نہیں چلائی جا سکتیں۔ انتظامیہ کو چاہیئے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے تاکہ انسانی زندگیوں کا تحفظ اور قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں