یوم یکجہتی کشمیر اور مسئلہ کشمیر

ہر سال کی طرح اس سال بھی5فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر خوب جوش و جذبے سے منایا گیا۔ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے ہر سال پاکستان کی جانب سے قومی چھٹی منائی جاتی ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اس جدوجہدِ آزادی میں تنہا نہیں ہے بلکہ پاکستان کی اکیس کروڑ عوام ان کے ساتھ ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک مسئلہ کشمیر پر کشمیری عوام کی جدو جہد آزادی پر انکی حمایت کر چکے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان فسادات کی اصل جڑ مسئلہ کشمیر کو سمجھا جاتا ہے۔ آزادی کے ایک سال بعد ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان اس تنازع پر جنگ چھڑ گئی اور پاکستان نے کشمیر کے بہت سے مقبوضہ علاقے بھارت سے چھین لیئے۔ پاکستان ہمیشہ سے ہی ہر سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں انکا ساتھ دیتا آیا ہے اور انکے حق آزادی کے لیئے آواز اٹھاتا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے اقوام متحدہ میں کئی قرارداد یں منظور کی جاچکی ہیں لیکن بھارت کی ہٹ ڈھرمی کی وجہ سے ان پر عملدرامد نہیں ہو سکا۔ پاکستان کی جانب سے ہر سال یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد عالمی برادری کی اس تنازع پر توجہ دلانا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے کشمیر کے تناز ع کے حل کے لیئے اقدامات نا کافی ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان جب تک اس مسئلہ کا پر امن حل نہیں نکالا جائیگا تب تک اس خطے میں امن کا قیام مشکل کا شکار رہے گا۔

آرٹیکل 62 ون ایف : نا اہلی کی مدت کتنی ہونی چاہیئے؟

بانی پاکستان کی جانب سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا گیا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کو خطے میں امن کے قیام کے لیئے ناگزیر قرار دیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ بھی کشمیر تنازع سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کشمیر بھارت کے قبضے میں رہے گا تو پاکستان پر پانی کی بندش شدت اختیار کر جائے گی اور بھارت عملی طور پر پاکستان پر حاوی ہوجائے گا۔ پانی کے مسئلہ کی وجہ سے پاکستان کو کافی گھمبیر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور فصلوں کو پانی کی بروقت ترسیل نہ ہونے کی وجہ سے کافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ سیلاب کے دنوں میں بھارت کی جانب سے پانی چھوڑ دیا جاتا ہے اور سیلاب کا پانی فصلوں کو تباہ کردیتا ہے۔ ان تمام مسائل کے حل کے لیئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کشمیر کے تنازع کو حل کیا جائے اور اس حوالے سے عملی اقدامات کیئے جائیں ۔ پاکستان کی کشمیر کمیٹی جو کہ اس وقت عملی طور پر بیکارہوچکی ہے ، اس کو لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیر کے تنازع کو حل کرنے میں مدد ملے اور پاکستان اور بھارت کے درمیان اس دیرینا مسئلے کے حل سے خطے میں امن کا قیام ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں