سیاست میں اخلاقیات کا فقدان

نااہل سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جانب سے سپریم کے فیصلے کے بعد عدلیہ کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی جاری ہے۔میاں نواز شریف نے بارہا عدل کی بحالی کا عنوان دیکر ایک عدلیہ مخالف تحریک چلانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔جڑانوالہ میں جلسے کے دوران خطاب کرتے ہوئے میاں صاحب نے عدلیہ پر بھرپور تنقید کی اور کہا کہ ججوں کے پاس عوام کے منتخب نمائندوں کو نکالنے کا کوئی اختیار نہیں۔ اس کے علاوہ ان کا مزاج انکی طرز سیاست سے کافی مختلف نظر آیا۔ اس سے پہلے زبان درازی اور نقلیں اتارنے پر ن لیگ کے نمائندوں کی جانب سے چیئر مین تحریک انصاف عمران خان پر تنقید کی جاتی تھی لیکن جس عمل پر ن لیگ پہلے تنقید کرتی نظر آتی تھی وہی عمل انکے سربراہ کی جانب سے دہرایا جا رہا ہے۔

جعلی دودھ کے خلاف ایکشن

اس سے پہلے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل کیا گیا تھا تب میاں صاحب اور ن لیگ کی قیادت کے بیانات عدالت کے فیصلے کے حق میں تھے۔ یوسف رضا گیلانی کی نااہلی پر پیپلز پارٹی کی جانب سے اس طرح کا ردِ عمل سامنے نہیں آیا تھا جیسا کہ آج میاں صاحب اور ن لیگ کی جانب سے سامنے آ رہا ہے۔ مسلم لیگ کے راہنما سیاست میں جس طرح کا طرز عمل قائم کر رہے ہیں وہ قابل افسوس ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام ہر طرح سے لازمی ہے۔ اخلاقی طور پر بھی اور قانونی طور پر بھی عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید نہیں کی جا سکتی،اور جب عدلیہ کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی کا عمل شروع ہوجائے تو عوام میں اس کا منفی تاثر جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے راہنماؤں کی ذاتی زندگیوں پر تنقید اور نقلیں اتارنا ہمارے قومی راہنماؤں کو زیب نہیں دیتا۔ ایسے طرز عمل سے کارکنان کے ساتھ ساتھ عوام کی تربیت پربھی خاصہ منفی اثر پڑے گا۔ سیاست میں زبان اور طرز عمل سے عوام اور کارکنان کو ایک مثبت راہ پر چلانامقصود ہوتا ہے اور سیاسی راہنماؤں پر اس کی بھرپور ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر سیاسی راہنما ہی عوام میں عدلیہ اور دیگر ملکی اداروں کے خلاف زہر بھرنا شروع کر دیں گے توبالآخر عوام کا ان اداروں پرسے اعتماداٹھنا شروع ہوجائے گا جو کہ ملک کے لیئے نقصان دہ ہے۔
میاں صاحب کی جانب سے عدلیہ مخالف تحریک کے نعرے اور دعوے عوام میں بے چینی اور اضطراب کا باعث بن رہے ہیں اور یہ نعرے عدلیہ کی توہین کے زمرے میں بھی آتے ہیں لیکن عدالت کی جانب سے ابھی تک ان بیانات پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ۔ ہمارے سیاسی راہنماؤں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالت کے فیصلوں کا احترام کریں اور اس کے ساتھ ساتھ سیاسی طرز عمل کو بہتر بنائیں۔ چاہے وہ عمران خان ہوں یا آصف زرداری یا شریف برادران، احترام اور میانہ روی کی راہ اپنائیں اور ایک دوسرے کی ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھالنے اور غیر اخلاقی حرکات اور بیانات دینے سے گریز کریں تاکہ سیاست کے ساتھ ساتھ عوام کی تربیت بھی کی جا سکے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں