لودھراں ضمنی الیکشن،ایک بڑااپ سیٹ یانوازشریف لہر؟

سابق وزیراعظم نوازشریف نے لودھراں سے قومی اسمبلی کے حلقہ154پرمسلم لیگ (ن)کے نامزد امیدوارپیراقبال شاہ کی ریکارڈ لیڈسے کامیابی کواحتساب کے نام پرانتقام کاجواب قراردیتے ہوئے کہاکہ’’ان کامقدمہ اب عوام لڑرہے ہیں ۔‘‘اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہرمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے تبایاکہ عوامی عدالت نے اہل اورنااہل کافیصلہ کردیااس لیے میرے خلاف فیصلے دینے والے عوامی عدالت کے فیصلے کوبھی دیکھ لیں ۔انہوں نے کہاکہ جنہوں نے کرپشن ریفرنس بناکراحتساب عدالت بھیجے اوردیگرمعاملہ نیب کوبھجوایا،ان کی خواہش ہے کہ نوازشریف کوکسی نہ کسی طرح سزاہوجائے ۔میرے خلاف ریفرنسز میں جان ہوتی توضمنی ریفرنس نہ بنانے پڑتے؟یہ ضمنی ریفرنسز کب تک آتے رہیں گے اورکیوں آتے رہیں گے؟ سابق وزیراعظم نے اسے بھی اپنے خلاف انتقام قراردیتے ہوئے کہاکہ ڈرنے کی بجائے وہ مقدمات کاسامناکریں گے ۔انہوں نے اپنے خلاف زیرسماعت کرپشن ریفرنسز کوغیرسنجیدہ الزامات قراردے کر خودہی فیصلہ سناتے ہوئے کہاکہ جب الزامات ہی کوئی نہیں توسزاکیسے ہوگی؟جہاں تک مسلم لیگ ن کے قائدکے28جولائی2017ء کے بعدبدلے ہوئے روئیے اورسوچ کاتعلق ہے توملک بھرکے سیاسی ،جمہوری،قانونی،آئینی اورعوامی حلقے اپنے اپنے انداز میں دیکھ ،سمجھ اورمحسوس کررہے ہیں ۔ معاملے کوسنجیدگی سے لیاجائے توعوامی وسیاسی سوچ کے پیچھے اخلاقیات بلکہ رائے عامہ ہوتی ہے جبکہ عدالتوں میں زیرسماعت کریمنل یادستوری نوعیت کے الزامات مختلف چیزہوتی ہے ۔میاں نوازشریف نے پہلے بھی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم اوربعدازاں نیب کے ساتھ عدم تعاون کاراستہ اختیارکرکے خوداپنے لیے مشکلات پیداکیں او راب گزشتہ چھ ماہ سے ان کارویہ چندججز کے خلاف بھی انتہائی سخت بلکہ ترش روہوچکاہے۔قانون کی عد التیں توحقائق کی روشنی میں اپنے روبروپڑے مواداوروکلاء کے دلائل دیکھتی ہیں ۔کرپشن مقدمات البتہ بے تحاشہ الجھے ہوتے ہیں۔کرپشن کیسے شروع ہوئی ،کہاں سے ہوتی ہوئی کہاں تک پہنچی اس ساری فلم میں چلنے والے کردار کہاں مشکوک ہوتے ہیں اورکہاں ثبوت فراہم کرنے سے بے بس،صاف واضح ہوچکاہے۔ایون فیلڈریفرنس ہویاالعزیزیہ سٹیل ملز،فلیگ شپ انوسٹمنٹ کمپنی ہویاقطر میں کی جانے والی انوسٹمنٹ ،قوم کوکچھ نہ کچھ توبتاناہی پڑے گا؟بیٹے کی ملکیت فرم سے تنخواہ نہ لیناعوام کے لیے توعام سی بات ہوسکتی ہے ،مالیاتی قانون میں عام بات نہیں ہو سکتی۔

غیر قانونی پیٹرول پمپس کا دھندہ

دراصل میاں نوازشریف عوام کواپنے گرداکٹھا کرکے جس قوت کے خلاف متحرک کرناچاہتے ہیں ،اس کی حفاظت توآئین اورقانون خودکررہاہے ۔پاکستان میں بحالی ججز کے بعد اب بحالی عدلیہ کی تحریک کامقصدعام آدمی ایسی عدلیہ کوسمجھتاہے جونوازشریف کوپسندہو،وگرنہ سب کچھ بیکار۔چندروزقبل چوہدری نثارکے اعلان کی روشنی میں دیکھاجائے توعدلیہ کے ساتھ محاذ آرائیاں اس موقع پر نوازشریف کوکرنی ہی نہیں چاہیے وگرنہ اس کے زبردست مہیب نتائج برآمد ہوں گے۔لودھراں جنوبی پنجاب کا انتہائی پسماندہ اوربنیادی سہولتوں سے محروم علاقہ ہے۔جس طرح میاں شہبازشریف یہاں بنیادی سہولتوں کاجال بچھارہے ہیں،وہ سیاسی طورپرعوام کوطاقتور بنانے اورمحرومیوں کی بجائے سہولتوں کی روشنی میں بہترسوچ دینے کا ذریعہ بن سکتاہے مگر عوامی حمایت اورمسلم لیگ(ن)کے ساتھ وابستگی ظاہرکرنے والے لودھراں کے عوام کو’’اپنامقدمہ‘‘لڑنے کے مترادف نہیں قراردیاجاسکتا؟بلاشبہ مسلم لیگ ن اس ملک کے کروڑوں عوام کی نہ صرف سیاسی پسند بلکہ اس کی کارکردگی ان کے لیے بڑے حوصلے کی بات بھی ہے ۔میاں نوازشریف کویہ بات سمجھنی چاہیے کہ تین ماہ بعدملک میں نگران حکومتیں موجود ہوں گی،ایسی صور ت میں مسلم لیگ ن کواپنی حقیقی طاقت اورمقبولیت منوانی ہوگی۔بعض خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق شاہدخاقان عباسی کی حکومت ختم ہوتے ہی مسلم لیگ ن کے اندرمتعدد گروپ بن سکتے ہیں جوپارٹی کی قوت کاشیرازہ بکھیرسکتے ہیں۔ وقت آگیاہے کہ نوازشریف اپنی پارٹی کوٹوٹ پھوٹ سے بچاکرآئندہ الیکشن تک لے جائیں جس کے بعدکسی آئینی ترمیم کاراستہ کھل سکے گا،لیکن غلط وقت پرغیرجمہوری وغیراخلاقی نعرے بازی سے نوازشریف کی اپنی ساکھ تباہ ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں