سینیٹ انتخابات :ہارس ٹریڈنگ کی منفی سیاست

الیکشن کمیشن نے 3 مارچ کو سینیٹ کے انتخابات کا اعلان کرتے ہوئے شیڈول جاری کر دیا ہے جو کہ جمہوری نظام کے لیئے بہت خوش آئند عمل ہے۔ شیڈول کے مطابق امیدواران4 سے 6فروری تک کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 9 فروری تک جانچ پڑتال مکمل کرکے 15 فروری تک امیدواران کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔
سینیٹ الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی بہت سے خدشات دم توڑ گئے ہیں اور الیکشن کمیشن کے اس اعلان سے جمہوریت کے تسلسل کی جانب پہلا قدم بڑھ گیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش گئی اور بہت سے ارکان کی جانب سے وزیر اعلیٰ کی مخالفت میں ووٹ دیا گیا۔ اس قرارداد کے بعد بہت سے حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ سینیٹ انتخابات وقت پر نہیں ہو سکیں گے اور بلوچستان اسمبلی کے حالات کی روشنی میں ملک کی بقیہ اسمبلیوں میں بھی کچھ نادیدہ قوتوں کی ایما پر ایسے اقدامات کیئے جائیں گے جس سے جمہوریت کا پہیہ جام ہوگا۔

سیاست میں اخلاقیات کا فقدان

یاد رہے کہ سینیٹ میں کل نشستوں کی تعداد 104 ہے جن میں سے ہر صوبے کے حصے میں 23 نشستیں ہونگی ۔ بقیہ نشستوں میں 8 نشستیں فاٹا جبکہ 4 نشستیں اسلام آباد سے ہونگی۔ سینیٹ کے ہر رکن کی آئینی مدت 6 برس ہوتی ہے جبکہ ہر 3 سال کے بعد نصف نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔ 11 مارچ کو سینیٹ کے 52 ارکان کی مدت پوری ہورہی ہے جس کے بعد تین مارچ کی پولنگ میں انکی جگہ نئے سینیٹرز کو منتخب کیا جائے گا۔ سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل ہوگی لیکن اس دفعہ کے حالات پہلے سے زیادہ گھمبیر ہوسکتے ہیں۔بلوچستان اسمبلی کے حالات کی روشنی میں ناقدین کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ ن کو بلوچستان اسمبلی سے سیٹیں جیتنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا چونکہ ووٹنگ کا عمل خفیہ طریقے سے ہوگا لہذا ہارس ٹریڈنگ بھی عروج پر ہوگی۔ اسمبلی میں اکھاڑ بچھاڑ کی جائے گی اور ارکان کو خریدنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ میں بھی ہر پارٹی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اکثریتی نشستیں حاصل کرے کیونکہ کوئی بھی بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جاتا ہے۔ لہذا اگر کسی پارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی میں بل کی منظوری دی گئی ہو لیکن سینیٹ میں اس کی اکثریت نہ ہو تو بل کی منظوری میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیئے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیئے ہر پارٹی کی جانب سے بھرپور کوشش کی جاتی ہے اور اس کے لیئے اراکین کا جوڑ توڑ بھی کرنا پڑے تو کیا جاتا ہے۔
سیاسی قائدین کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کا مفاد ہی انکی پارٹی کا مفاد ہوگا اور ہارس ٹریڈنگ کی روایت ملک کے مفاد میں نہیں ہے، اس موقع پر تمام قائدین کوچاہیئے کہ وہ ہارس ٹریڈنگ جیسی غلط سیاسی روایات کو بڑھاوا دینے کی بجائے اس کو توڑنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہماری سیاست میں اعلیٰ اخلاقیات کی مثال قائم ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں