ایک بات جانتا ہوں کہ مشرف کا ٹرائل اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا، نواز شریف

سابق وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے فریادی والی بات کی تھی تو انہیں اپنی بات پر قائم رہنا چاہئے تھا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ فریادی والے الفاظ چیف جسٹس یا کسی اورکو بھی زیب نہیں دیتے، انہیں یہ کہنا بھی زیب نہیں دیتا کہ وہ میرے پاس چل کرآئے تھے، یہ انسانیت کی توہین ہے، اور اگر چیف جسٹس نے فریادی والی بات کی تھی تو انہیں اپنی بات پر قائم رہنا چاہئے تھا۔

پرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا بینچ ٹوٹ جانے کے سوال پر نوازشریف نے کہا کہ اس طرح توہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں، ایک بات جانتا ہوں کہ پرویز مشرف کا ٹرائل اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا، حقیقت کی بات کررہا ہوں احتساب سب کا ہوگا اورہرصورت ہوگا، اب وقت وہ نہیں رہا اورحالات بھی وہ نہیں رہے، پرویزمشرف بے شک مفروررہے، ایک دن آئے گا انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔

انتخابات 2018 عدلیہ کی زیرِنگرانی کرانے کا فیصلہ

نوازشریف نے کہا کہ کیس تو1962 سے چل رہا ہے جب میں اسکول میں پڑھتا تھا، اگر کسی جگہ کرپشن یا بد عنوانی سامنے آئی تو وہ پیش کیوں نہیں کررہے، اثاثے اثاثے کر رہے ہیں، کرپشن کا الزام لگایا ہے وہ ثابت کریں، حسن اور حسین نواز کبھی وزیراعظم رہے اور نہ ہی وزراء، مجھے آج تک نیب کا کوئی ایسا ریفرنس بتائیں جس میں کرپشن کا الزام نہ ہو اورپھر میرے والے ریفرنس کو دیکھ لیں اس میں کہاں کرپشن کا الزام ہے، تمام کیس صرف ہمارے فیملی کاروبار کے ارد گرد گھوم رہا ہے۔ نیب کے اسٹار گواہ وا جد ضیاء نے تمام الزامات کی خود تردید کردی، سزا دینا مقصود ہے تو میرا نام این ایل سی،ای او بی آئی، رینٹل پاور کیسز میں ڈال کر خواہش پوری کرلیں، میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ اس کیس میں کچھ نہیں، اسی طرح ہی یہ سارا ڈرامہ منطقی انجام تک پہنچ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں