راؤانوار کی ’’سفری ضمانت‘‘

جنوری کے آخر میں کراچی کے ایک جعلی پولیس مقابلے کے دوران خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نقیب اللہ محسود سمیت متعدد افراد کی ماورائے عدالت ہلاکتوں میں ملوث اوربعدازاں روپوش ایس ایس پی ملیر راؤانوار کی گزشتہ روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثارسمیت تین رکنی بنچ نے نہ صرف ضمانت منظورکرلی بلکہ اسلام آباد اورسندھ پولیس والوں کویہ ہدایت بھی جاری کردی کہ ملزم کی طرف سے رابطہ کرنے کی صورت میں گرفتارکرنے کی بجائے اسے محفوظ طریقے سے عدالت عظمیٰ پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے ۔چیف جسٹس نے قراردیاکہ ملزم کی طرف سے خودکوقانون کے حوالے کرنے کی استدعا کے بعداس کے خلاف ماورائے آئین اقدامات کی تحقیقات کرنے کے لیے بھی آئی ایس آئی ،آئی بی اورپورے پاکستان میں تفتیش کے بہترین ماہرپولیس افسر پرمشتمل جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جائے گی۔چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے نام لکھے گئے راؤانوارکے خط میں خود کوبے گناہ قراردیتے ہوئے صفائی کاموقع فراہم کرنے کی درخواست کوانتہائی اہمیت کاحامل قراردیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اگر کوئی ملزم اپنی صفائی دینی چاہتاہے تواسے موقع ملنا چاہیے ۔چیف جسٹس نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کوراؤانوار کاتحریرکیاجانے والاخط دکھاتے ہوئے پوچھا کہ کیااس پردستخط ملز م کے ہی ہیں ؟جس پرآئی جی سندھ کے ساتھ کھڑے ایک اعلیٰ پولیس افسر وں نے عدالت عظمیٰ کویقین دلایاکہ یہ دستخط راؤانوارسے ملتے جلتے ہی ہیں۔اپنے خط میں راؤانوارنے لکھاہے کہ جس وقت نقیب اللہ محسود کاقتل ہواوہ موقع پر موجود ہی نہیں تھا۔وہ اس معاملے میں مکمل بے گناہ ہے اگرآزاد جے آئی ٹی بنوادی جائے جومجھے پولیس مقابلے میں ملوث قراردے دیں تومیں خود تسلیم کرلوں گا۔عدالتی استفسار پرآئی جی سندھ نے بھی اعتراف کیاکہ راؤانوار کوصفائی کاموقع ملناچاہیے تاکہ حقائق منظرعام پراورعوام میں پھیلی بے چینی یامیڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی خبروں کی حقیقت سامنے آسکے۔اس موقع پر فاضل چیف جسٹس نے واضح کیاکہ اگرراؤانوارکوخدانخواستہ عدالت پہنچتے پہنچتے ہی کچھ ہوگیا توسارے ثبوت ہی ختم ہوجائیں گے۔سپریم کورٹ کے فل بنچ نے ایس ایس پی ملیرراؤانوارکو’’پروٹیکٹوبیل‘‘دے دی۔جہاں تک عدالت عظمیٰ میں گزشتہ روز ہونے والی کارروائی کاتعلق ہے تواسے نہ صرف اصولوں اوراخلاقیات کی فتح قراردیاجاسکتاہے بلکہ سپریم کورٹ نے واضح کیاکہ محض الزامات ،اخباری تراشوں ،نیوز چینلوں کی روشنی میں کسی شخص مجرم قرار نہیں دیاجاسکتا ،اسے سننے کاحق اوروضاحت کاوقت ضرورملناچاہیے۔خیبرپختونخواہ کے محسودقبائل گزشتہ15روزسے راؤانوار کونقیب اللہ کے قتل کاحقیقی ذمہ دارقراردینے کے ساتھ اسے ایسابے خوف ،بے رحم اورغیرذمہ دارپولیس آفیسرقراردیتے رہے جس نے کراچی میں انسانی زندگیوں کوگاجرمولی کی طرح سمجھ رکھا ہو۔جوپولیس مقابلوں کی آڑ میں جہاں کوئی انسان نظرآئے ،اسے موت کے گھاٹ اتارنا ایک مشغلہ سمجھتاہو۔

لودھراں ضمنی الیکشن،ایک بڑااپ سیٹ یانوازشریف لہر؟

کراچی کے بعض عوامی حلقوں کے متعلق ایس پی ملیرراؤانوار سفاک پولیس آفیسر کے طورپر مشہور ہوچکاتھا۔جہاں تک راؤانوارپربلاجواز پولیس مقابلے کرنے اورناپسندیدہ افراد کو چن چن کرمارنے جیسے شرمناک الزامات ہیں توانہیں سنجیدگی سے لینے کے ساتھ حقائق بھی دیکھنے چاہیے۔برسوں سے بطور ایس پی ملیر کام کرنے والے راؤانوارکے زیراختیار علاقے کے گیارہ تھانے بھی تھے ۔اس کے حکم پردن یارات کی پرواہ کیے بغیر متعلقہ تھانوں کی تمام پولیس نفری پہنچ جایاکرتی تھی۔اس کی اپنی موبائل اورسپیشل سکواڈبھی برسوں تک وہاں آپریشنل رہی۔اگرراؤانوار بلائنڈ کلرہوتاتواس سے پہلے بھی اس کے خلاف کوئی شکایت سامنے آتیَ؟دوران ملازمت ہی راؤانوار ایم کیوایم کے گرفتارکئے جانے والے جرائم پیشہ کارکنوں سے یہ اعتراف کروانے میں کامیاب ہواکہ وہ بھارتی تنظیم’’را‘‘کے لیے کام کرتے رہے ہیں ۔چندبرس قبل حراست میں لیے گئے ایم کیوایم کے ہی ٹارگٹ کلرز ،بھتہ خورکراچی میں وارداتوں کے ذریعے حاصل ہونے والی کروڑوں روپے کی رقوم سیکٹر انچارجوں اوردیگرذ مہ داروں کے ہمراہ بانی ایم کیوایم الطا ف حسین کوبھجوانے اوران کے حکم پرشہر میں خوف وہراس پھیلانے کابھی اعتراف کرچکے ہیں ۔راؤانوار جہاں چھاپے مارتایاکارروائی کرتا،وہاں سے سماج دشمن ہی کیوں برآمدہوتے رہے؟آخروہ ایک پولیس آفیسر تھاجسے قاعدے قانون کے اندررہ کرفرائض سرانجام دینے تھے ؟بدقسمتی سے ہمارے ہاں اگر کسی افسرکوکرپٹ قراردے دیاجائے توایسی تمام برائیاں بھی اسی کے نام پرتھوپ دی جاتی ہیں ،جواس نے کبھی سوچی بھی نہ ہوں۔سپریم کورٹ نے نہ صرف راؤانوار کوضمانت دی ،بلکہ 16فروری تک خود کوعدالت کے حوالے کرنے کابھی پابندکردیاہے۔آزادانہ جے آئی ٹی بناکر اس کے تمام جرائم اورقانون شکنیاں بھی تحقیقاتی ادارے کے علم میں لائی جاسکتی ہیں۔ایسے لگتاہے چندانتہائی تیز طراربلکہ شاطرمافیاز خودراؤانوار کوراستے سے ہٹاناچاہتے ہیں۔برسوں تک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والاایس ایس پی عہدہ کاآفیسر پاگل نہیں تھاجوبے گناہ انسانوں کوخاک وخون میں نہلاکراپنی اناکوتسکین دیتاہو۔کراچی میں جنوری کے آخری دنوں میں راؤانوارکے جعلی پولیس مقابلوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء سمیت ہرشخص کونہ صرف سپریم کورٹ کی جے آئی ٹی کے نتائج کاانتظارکرناہوگابلکہ متاثرین کو ناقابل تردید ثبوتوں کے ہمراہ انوسٹی گیشن کے دوران اپنی شکایات بمعہ ثبوت پیش کر نی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آسکیں محض اخباری تراشوں پرکسی پولیس آفیسر کوبڑاقانون شکن قراردینابجائے خودایک منفی روّیہ سمجھاجائے گاجس کی روک تھام ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں