معاوضے پر دستیاب پیشوا

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ اور روحانی پیشوا علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ سیاسی ملاقاتوں اور لاہور کے مال روڈ پر دیے جانے والے ناکام دھرنے کے بعد براستہ سعودی عرب لندن روانہ ہورگئیہیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کی لڑکھڑاتی اور ڈگمگاتی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا علامہ طاہر القادری کے ساتھ احتجاج اس بار اپوزیشن جماعتوں اور علامہ طاہر القادری دونوں کی ذلت کا سبب بنا جس کے بعد علامہ صاحب ایک بار پھر سے نیویں نیویں ہو کر بیرون ملک چل دیے ۔
لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے پُھپھسے دھرنے نے ثابت کردیا کہ شیخ الحدیث علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اب سٹیج پر چاہے آصف زرداری کو بٹھا لیں یا پھر عمران خان کو، اُن کی دال اب گلنے والی نہیں۔
دوسری طرف خادم حسین رضوی کی سربراہی میں ہونے والا 22 روزہ فیض آباد دھرنا حکومت سے مطالبات منظور کروانے میں کامیاب رہا تھا۔ اس کے باوجود کہ وفاقی حکومت نے پہلے دھرنے کے خلاف آپریشن کیا جس کے شدید ردّ عمل کے نتیجے میں وفاقی حکومت نے ہتھیار ڈال دیے اور مطالبات منظور کرلئے ۔
علامہ طاہر القادری کے اس بار پاکستان دورے کے دوران دیے جانے والے دھرنے کا موازنہ اگر علامہ خادم حسین رضوی کے دھرنے سے کیا
جائے۔ تو پتہ چلتا ہے کہ علامہ طاہر القادری سابق ناکام دھرنوں اور آئے روز حکومت مخالف احتجاجوں کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو چکے ہیں جبکہ خادم حسین رضوی حکومت سے ختم نبوت سے متعلق آئینی ترمیم کو کالعدم کروانے اور وزیر قانون زاہد حامد کا استعفٰی لینے میں کامیاب رہے تھے ۔
علامہ خادم حسین رضوی کی احتجاجی سیاست میں اینٹری کے بعد علامہ طاہر القادری کا پہلا دھرنا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ صرف سیاسی لوٹے ہی اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل نہیں کرتے،بلکہ روحانی وابستگی رکھنے والے مریدین بھی روحانی پیشواؤں کا سیاستدانوں کے ہاتھوں استعمال اور ماضی میں حکومت کے ساتھ فکسنگ بھی مریدین کو اپنا روحانی پیشوا تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتی ہے ۔
سونے پہ سہاگہ یہ کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق آرمی چیف کا بیان اور ڈی جی رینجرز، پنجاب کی لفافے بانٹتے کی مبینہ ویڈیو نے یہ بھی ثابت کردیا کہ ماضی میں جس اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ علامہ طاہر القادری کو حاصل تھی، فیض آباد دھرنے کے بعد انھوں نے بھی پیڈ پیشوا تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔

اشفاق سلیم مرزا کا فلسفہ تاریخ

علامہ طاہر القادری نے پیپلز پارٹی کے دور میں حکومتی کرپشن کے خلاف سیاست نہیں، ریاست بچاؤ تحریک اور اگست 2014 ء میں عمران خان کے شانہ بشانہ ماڈل ٹاؤن میں ہونے والی 14 ہلاکتوں کے لئے نواز حکومت مخالف انقلاب مارچ کیا تھا۔
4 برس بعد علامہ طاہر القادری کو سیاسی باسی کڑی میں آتے اُبال کو دیکھ کر پھر سے 14 قتل یاد آگئے جس کی وجہ سے علامہ طاہر القادری انقلاب کا ٹوکرا اٹھائے پھر سے پاکستان پہنچ گئے ۔
اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے دور میں علامہ طاہر القادری کا جنوری 2013 ء کی شدید سردیوں میں اسلام آباد میں دیا جانے والا 4 روزہ دھرنا اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلریشن کی حکومتی گولی ملنے پر ختم ہوا تھا جبکہ اگست 2014 ء میں علامہ صاحب اپنے دھرنا پارٹنر عمران خان کو 67 دنوں بعد ہی تنہا چھوڑ کر نو دو گیارہ ہوگئے اور اپنے مریدین کو یہ گولی دی کہ انھوں نے لوگوں کی ذہنیت تبدیل کردی
ہے ۔ اُن کی تحریک انقلاب جاری رہے گی۔
علامہ طاہر القادری 14 ہلاکتوں کیلئے حصولِ انصاف کی خاطر وقتاً فوقتاً گرجتے رہے ،لیکن جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کے بعد علامہ صاحب نے شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثنا اللہ کے استعفوں کے لئے ایک بار پھر تحریک چلانے کا اعلان کیا جس میں بے بس عمران خان اور سابق صدر آصف زرداری نے بھی سینیٹ انتخابات سے پہلے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے غنیمت سمجھا۔
علامہ طاہر القادری کی سربراہی میں ہونے والے لاہور دھرنے کی ناکامی کی وجہ 22 روز تک ڈٹے رہنے والے علامہ خادم حسین رضوی کی شخصیت بھی ہیں جنھوں نے علامہ طاہر القادری کے مسلک سے ہی تعلق رکھنے والے مریدین کو اسلام آباد کی شدید سردی میں بھی ثابت قدم رکھا اور وفاقی حکومت کا مسلح آپریشن بھی ٹانگوں سے معزور علامہ خادم حسین رضوی کو فیض آباد سے ٹس سے مَس ناکرسکا۔
فیض آباد دھرنے کے بعد ملکی سیاسی منظر نامے میں علامہ خادم حسین رضوی کافی اہمیت حاصل کرچکے ہیں جبکہ حالیہ ضمنی انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان کی کارکردگی نے اگلے عام انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتوں کو خوفزدہ کردیا ہے ۔
لاہور کا پھوکا دھرنا، فیض آباد دھرنے کی کامیابی اور ضمنی انتخابات میں علامہ خادم رضوی کی سیاسی جماعت کی کارکردگی، اپوزیشن جماعتوں کو یہ بھی سوچنے پر مجبور کرسکتی ہے کہ علامہ طاہر القادری کا بار بار سیاسی نظریہ ضروت کے تحت استعمال اور ماضی میں علامہ صاحب کے پھوکے دھرنوں کی وجہ سے پیڈ پیشوا تبدیل کرلیا جائے، خاص کر ایسی صورتحال میں جب علامہ خادم حسین رضوی کی خدمات بھی آسان شرائط پر دستیاب ہوں جنھیں غیر سیاسی طاقتوں کی آشیر واد بھی حاصل ہے اور روحانی مریدین کی سپورٹ بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں