امریکی ڈرون حملہ اور پاکستان کی پالیسی

بدھ کے روز وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے اور انتظامیہ کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان دو افراد کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں الیاس احسان اللہ اور اس کا ساتھی ناصر محمود شامل ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں افراد افغان شہری ہیں اور انکا تعلق حقانی نیٹ ورک سے ہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکی ڈرون طیارہ 15 منٹ تک پاکستانی حدود میں پرواز کرتا رہا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد مسلم ممالک اور خاص طور پر پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں سرد مہری کا عنصر شامل ہورہا ہے۔امریکی صدر پاکستان سمیت مسلم دنیا کے بارے میں متعدد بار اپنی نفرت کا اظہار کر چکے ہیں۔ سال 2018 کے شروع میں امریکی صدر کی ٹویٹ نے پاکستان کو بھی سخت موقف اپنانے پر مجبور کر دیا تھا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کی جائے گی اور امداد بھی روک دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے فروغ اور دہشت گردوں کو پناہ دینے کا بھی الزام عائد کیا گیا۔ امریکی صدر کی دھمکی کے کچھ عرصے بعد ہی امریکہ کی جانب سے پاکستان کی امدد بھی روک دی گئی تھی اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے نئی افغان پالیسی بھی متعارف کرائی گئی تھی۔ امریکہ کے حالیہ اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان کافی سر د مہری پائی جا رہی ہے اور پاکستان کی جانب سے بھی سخت موقف اپنایا گیا ہے۔ لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ ابھی تک پاکستان کے اس موقف سے امریکہ پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا سکا۔ امریکہ نے معمول کے مطابق اسی طرح ڈرون حملہ کیا جیسا وہ پہلے کرتا آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ڈرون حملوں کے حوالے سے ایک معاہدہ کیا گیا تھا اور امریکی انتظامیہ اس معاہدے کے مطابق ڈرون حملے کرنے کی مجاز ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھی زبانی کلامی احتجاج اور مذمتی بیان اس معاہدے کی کڑی کو ملا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کو چاہیئے کہ اگر ایسا کوئی معاہدہ طے پایا گیا تھا تو اس کو عوام کے سامنے لایا جائے ۔

پنجاب یونیورسٹی فسادات

پاکستان کی جانب سے اپنایا جانے والا موقف اور احتجاج کمزور دکھائی دیتا ہے اورحقیقت یہ ہے کہ ایسے کمزور موقف اور امریکی سفیر کو طلب کرکے زبانی احتجاج کرنے سے ڈرون حملے کسی صورت نہیں رکنے والے۔ ان ڈرون حملوں کو روکنے کے لیئے پاکستان کو سخت موقف اپنانے کی ضرورت ہے اور پاکستانی انتظامیہ کی جانب سے عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان جب تک امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک کر کھڑا رہے گا امریکہ اس کو کمزوری سمجھ کر ہمیشہ کی طرح جانائز فائدہ اٹھاتا رہے گا ۔ دھمکیوں کے سلسلے کے ساتھ امداد بند کرنا اور پھر پاکستانی حدود میں حملے کرنا پاکستان کی سلامتی اور دفائی حدود کی خلاف ورزی ہے جس سے امریکہ عالمی قوانین کو توڑنے کا بھی مرتکب ہورہا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ اگر اسے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی اطلاعات موصول ہوتی ہیں تو وہ پہلے پاکستانی انتظامیہ کو خبر کرے اور پاکستان اپنی حدود میں خود کاروائی کرے۔ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن میں پاکستان کے منع کرنے پر امریکہ کی جانب سے ڈرون حملہ روک دیا گیا تھا۔ یہ تب ہی ممکن ہوسکے گا جب پاکستان امریکہ کے سامنے اپنی سلامتی کی حفاظت کے لیئے سینہ سپر ہوکر کھڑا ہو اور امریکہ کو یہ باور کروائے کہ پاکستان ایک آزاد اورخود مختار ملک ہے جہاں اسکی اجازت کے بغیر سرحد پار سے کسی قسم کی کاروائی نہیں کی جا سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں