سمندری ممالیہ اتنے دیوہیکل کیوں ؟

سمندری حیات کے دیوہیکل جانور جیسے وہیل، سمندری گائے اور سمندری شیر اپنی جسامت اور ہیئت کے لحاظ سے خشکی پر پائے جانے والے ممالیہ جانوروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے اور مضبوط ہوتے ہیں؛ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟

خشکی کو اپنا مسکن بنانے والے ممالیہ جانوروں اور پانی میں زندگی گزارنے والے ممالیہ جانوروں کی جسامت، ساخت اور ہیئت میں پائے جانے والے فرق کے راز کو جاننے کی نیت سے تحقیق کاروں نے 4000 زندہ ممالیوں اور 3000 رکازات (فوسلز) کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران ممالیہ کے چار گروہوں کا مطالعہ کیا گیا اور یہ وجہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آخر سمندری ممالیہ اپنے زمینی رشتہ داروں سے اتنے ضخیم کیوں ہوتے ہیں۔

تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گرم خون والے جانور دیوہیکل جسامت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے کیوں کہ زیر آب رہنے کے لیے گرم خون والے جانوروں کو اپنے جسم میں زیادہ سے زیادہ حرارت پیدا کرنا پڑتی ہے اور زیادہ سے زیادہ حرارت اسی وقت پیدا کی جاسکتی ہے جب جسم کے خلیوں (سیلز) کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو۔ اس اصول کے مطابق، کسی جانور کو زندہ رہنے کےلیے جتنی حرارت درکار ہوتی ہے، اسے پیدا کرنے کےلیے جانور کو اپنی جسامت بھی اسی حساب سے بڑھانی پڑتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کی نسلیں ختم ہوجائیں گی اور وہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔

ترکی کی بک شیلف جیسی منفرد لائبریری

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ وہ جانور جن کی جسامت چھوٹی ہوتی ہے وہ زیادہ خلیات (سیلز) نہ ہونے کے باعث زیادہ حرارت بھی پیدا نہیں کرسکتے اس لیے اگر ممالیہ کی جسامت کم ہو تو وہ زیر آب زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہ سکیں گے اور پوری نسل کا خاتمہ ہو جائے گا۔ گرم خون والے جانوروں کو اپنا جسمانی درجہ حرات برقرار رکھنے (یعنی تھرمو ریگولیشن) کےلیے ایک مؤثر نظام کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ انہیں خشکی پر پائے جانے والے، اپنے ہی جیسے دوسرے ممالیوں کے مقابلے میں زیادہ غذا کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ علاوہ ازیں زیادہ حرارت کےلیے خلیات کی تعداد بھی زیادہ ہوتی چاہیے کیونکہ سمندر کا اندرونی ماحول، خشکی والے ماحول کے مقابلے میں زیادہ سرد ہوتا ہے جو ممالیہ کا جسمانی درجہ حرارت برقرار رکھنے میں مددگار سے زیادہ رکاوٹ بن جاتا ہے۔ خلیات کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ان جانوروں کو زیادہ غذا بھی کھانی پڑتی ہے جس کے باعث سمندر میں رہنے والے ممالیوں کی جسامت، خشکی پر رہنے والے اپنے رشتہ داروں سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

فالج کے مقابلہ کے لیے چند احتیاطی تدابیر

تحقیق کاروں کا دعویٰ ہے کہ پانی میں رہنے والے ممالیہ جانوروں کو فطرت سے مطابقت رکھنے اور غیر مانوس ماحول میں خود کا ڈھالنے کےلیے کئی دشوار گزار مرحلوں سے گزرنا پڑا تھا۔ لاکھوں سال جاری رہنے والا یہ ارتقائی عمل، ممالیہ کی دیوہیکل جسامت ہونے کی بنیادی وجہ بنا۔ یعنی آسان لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پانی میں رہنے والے ممالیہ درجہ حرارت، غذا اور ماحول سے مطابقت رکھنے والے اندازِ زندگی کے باعث زمینی ممالیہ کے مدمقابل دیو ہیکل ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ ’ممالیہ‘ جانوروں کی اُن اقسام کو کہا جاتا ہے کہ جو ریڑھ کی ہڈی رکھتے ہیں، بچے پیدا کرتے ہیں اور اُن کی مادائیں اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں جس کےلیے اُن کے جسم میں خصوصی غدود (Mammary Gland) موجود ہوتے ہیں اور اسی مناسبت سے انہیں ممالیہ (Mammals) کہا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں